جمعیت کا اصل چہرہ
جمعیت کا کردار، آئیے بات کرتے ہیں!
اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سے پشاور اور گوادر سے چترال تک موجود ہے، اس عالم میں کہ باقی تمام طلبہ تنظیمیں صوبے سے گھٹ کر ایک شہر اور ایک ادارے تک محدود ہو گئی ہیں۔ کیوں؟ کبھی اس پہلو پر بات کیجیے
جمعیت نے پورے میں ملک میں اور ہر چھوٹی بڑی یونیورسٹی میں کتاب میلے کا آغاز کیا، اسے فروغ دیا، کتاب دوستی کا کلچر پروان چڑھایا، اسی پنجاب یونیورسٹی سے اس کا آغاز ہوا تھا۔ اس پر مکالمہ کیجیے
جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جس کے ٹین ایجر طلبہ کراچی ایکسپو سنٹر سے لاہور ایکسپو سنٹر تک، ہر چھوٹے بڑے شہر میں تعلیمی اور ٹیلنٹ ایکسپو کا اہتمام، اس کے کروڑوں کے بجٹ کا انتظام کرتے ہیں، یہ سب '' بچوں'' کے ہاتھ میں ہوتا ہے، نہ صرف وہ طلبہ کو راستہ دکھاتے ہیں بلکہ اس عملی تجربے سے معاشرے میں قائدانہ کردار کے گر سیکھتے ہیں۔ اس پر کوئی مذاکرہ کیجیے
جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو کراچی یونیورسٹی سے پشاور یونیورسٹی تک، اور پنجاب یونیورسٹی سے گومل یونیورسٹی تک انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرواتی، داخلہ کیمپ لگاتی طلبہ کی رہنمائی کا اہتمام کرتی ہے، نئے داخلے ہونے والوں کی اجنبیت کو سالوں کی شناسائی میں بدل دیتی ہے۔ اس کلچر کو زیر بحث لائیے۔
پھر جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو اداروں میں تعلیم اور طلبہ مسائل کے حل کے حوالے سے نہ صرف رہنمائی کرتی ہے بلکہ فیسوں کی ادائیگی سے کتب کی فراہمی تک میں ایسے مدد دیتی ہے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ اس پہلو کا کچھ موازنہ کیجیے
پھر جمعیت ہی واحد طلبہ تنظیم ہے جو اپنے وابستگان میں باصلاحیت لوگوں کا انتخاب کرتی، انھیں اعلی تعلیم کی طرف متوجہ کرتی ہے، اندرون و بیرون ملک اس کے وابستگان سب سے زیادہ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، کئی ایک جمعیت کے خرچ پر، اس پر کوئی مقابلہ کیجیے
جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو اس کے دامن سے جڑ جاتے ہیں ان کی کردار سازی کا اہتمام کرتی ہے۔ درس قرآن سے سٹڈی سرکل تک، زیارت قبور ٹریننگ ورکشاپس تک۔ اس پر دو لفظ لکھیے۔
پھر جمعیت ہی واحد طلبہ تنظیم ہے جو کیرئیر کونسلنگ کا نہ صرف اہتمام کرتی ہے بلکہ زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کے عملی مواقع و رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے، اور کسی سفارش، خاندانی پس منظر سے کمزور فرد کو بھی میرٹ پر اس کی جگہ تک پہنچا دیتی ہے۔
اور پھر جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو کالج یونیوسٹیوں میں نہیں، اسکولوں سے بچوں کو اسلام کی طرف راغب کرتی ہے۔ بزم پیغام، بزم شاہین اور دوسری کئی بزم اس سے وابستہ ہیں۔ کوئی اور مثال سامنے لائیے۔
پھر جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جس کے ساتھ ہر یونیورسٹی و ادارے میں اسی علاقے اور زبان سے وابستہ لوگ ہیں، اور دیگر جگہوں سے آئے ہیں تو وہ بھی۔ مثلا کراچی یونیورسٹی میں اردو سپیکنگ، ساتھ میں پختون پنجابی، پنجاب یونیورسٹی میں پنجابی ساتھ میں پختون و دیگر، پشاور یونیورسٹی میں پختون و ہندکو و پنجابی، کوئٹہ میں بلوچ و پختون و دیگر۔ یہ پاکستان میں ہی نہیں ہر ادارے میں وفاق اور وطن کی علامت ہے۔ اس وفاقیت پر بات کیجیے۔
پھر اسلامی جمعیت طلبہ حیا کلچر کی صرف بات نہیں کرتی، بلکہ طالبات کے لیے اس کا ونگ ہی الگ ہے اور اسلامی جمعیت طالبات کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے پروگرام پر کل شرپسند عناصر نے حملہ کیا۔ دوسری طلبہ تنظیموں کا وجود ہی نہیں رہا تو طالبات ونگ کہاں سے لائیں۔ اس انفرادیت کو موضوع بحث بنائیے۔
پاکستان سے جمعیت واحد طلبہ تنظیم جو کئی انٹرنیشنل اور اسلامی فورمز پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتی ہے، اپنے وطن کے لیے باعث افتخار بنتی ہے۔ کوئی مدمقابل ہو تو سامنے لائیے۔
ان شاء اللہ اگر آپ لبرل ہیں تو کسی میدان میں مقابلہ نہ ہو سکے گا۔ اور اگر آپ ''درمیانے'' ہیں تو کوئی موازنہ نہ کر سکیں گے۔ یہ بذات خود جمعیت کی اتنی بڑی کامیابی ہے کہ ظاہری و باطنی مخالفین کا واویلا مچانا بنتا ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سے پشاور اور گوادر سے چترال تک موجود ہے، اس عالم میں کہ باقی تمام طلبہ تنظیمیں صوبے سے گھٹ کر ایک شہر اور ایک ادارے تک محدود ہو گئی ہیں۔ کیوں؟ کبھی اس پہلو پر بات کیجیے
جمعیت نے پورے میں ملک میں اور ہر چھوٹی بڑی یونیورسٹی میں کتاب میلے کا آغاز کیا، اسے فروغ دیا، کتاب دوستی کا کلچر پروان چڑھایا، اسی پنجاب یونیورسٹی سے اس کا آغاز ہوا تھا۔ اس پر مکالمہ کیجیے
جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جس کے ٹین ایجر طلبہ کراچی ایکسپو سنٹر سے لاہور ایکسپو سنٹر تک، ہر چھوٹے بڑے شہر میں تعلیمی اور ٹیلنٹ ایکسپو کا اہتمام، اس کے کروڑوں کے بجٹ کا انتظام کرتے ہیں، یہ سب '' بچوں'' کے ہاتھ میں ہوتا ہے، نہ صرف وہ طلبہ کو راستہ دکھاتے ہیں بلکہ اس عملی تجربے سے معاشرے میں قائدانہ کردار کے گر سیکھتے ہیں۔ اس پر کوئی مذاکرہ کیجیے
جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو کراچی یونیورسٹی سے پشاور یونیورسٹی تک، اور پنجاب یونیورسٹی سے گومل یونیورسٹی تک انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرواتی، داخلہ کیمپ لگاتی طلبہ کی رہنمائی کا اہتمام کرتی ہے، نئے داخلے ہونے والوں کی اجنبیت کو سالوں کی شناسائی میں بدل دیتی ہے۔ اس کلچر کو زیر بحث لائیے۔
پھر جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو اداروں میں تعلیم اور طلبہ مسائل کے حل کے حوالے سے نہ صرف رہنمائی کرتی ہے بلکہ فیسوں کی ادائیگی سے کتب کی فراہمی تک میں ایسے مدد دیتی ہے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ اس پہلو کا کچھ موازنہ کیجیے
پھر جمعیت ہی واحد طلبہ تنظیم ہے جو اپنے وابستگان میں باصلاحیت لوگوں کا انتخاب کرتی، انھیں اعلی تعلیم کی طرف متوجہ کرتی ہے، اندرون و بیرون ملک اس کے وابستگان سب سے زیادہ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، کئی ایک جمعیت کے خرچ پر، اس پر کوئی مقابلہ کیجیے
جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو اس کے دامن سے جڑ جاتے ہیں ان کی کردار سازی کا اہتمام کرتی ہے۔ درس قرآن سے سٹڈی سرکل تک، زیارت قبور ٹریننگ ورکشاپس تک۔ اس پر دو لفظ لکھیے۔
پھر جمعیت ہی واحد طلبہ تنظیم ہے جو کیرئیر کونسلنگ کا نہ صرف اہتمام کرتی ہے بلکہ زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کے عملی مواقع و رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے، اور کسی سفارش، خاندانی پس منظر سے کمزور فرد کو بھی میرٹ پر اس کی جگہ تک پہنچا دیتی ہے۔
اور پھر جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جو کالج یونیوسٹیوں میں نہیں، اسکولوں سے بچوں کو اسلام کی طرف راغب کرتی ہے۔ بزم پیغام، بزم شاہین اور دوسری کئی بزم اس سے وابستہ ہیں۔ کوئی اور مثال سامنے لائیے۔
پھر جمعیت واحد طلبہ تنظیم ہے جس کے ساتھ ہر یونیورسٹی و ادارے میں اسی علاقے اور زبان سے وابستہ لوگ ہیں، اور دیگر جگہوں سے آئے ہیں تو وہ بھی۔ مثلا کراچی یونیورسٹی میں اردو سپیکنگ، ساتھ میں پختون پنجابی، پنجاب یونیورسٹی میں پنجابی ساتھ میں پختون و دیگر، پشاور یونیورسٹی میں پختون و ہندکو و پنجابی، کوئٹہ میں بلوچ و پختون و دیگر۔ یہ پاکستان میں ہی نہیں ہر ادارے میں وفاق اور وطن کی علامت ہے۔ اس وفاقیت پر بات کیجیے۔
پھر اسلامی جمعیت طلبہ حیا کلچر کی صرف بات نہیں کرتی، بلکہ طالبات کے لیے اس کا ونگ ہی الگ ہے اور اسلامی جمعیت طالبات کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے پروگرام پر کل شرپسند عناصر نے حملہ کیا۔ دوسری طلبہ تنظیموں کا وجود ہی نہیں رہا تو طالبات ونگ کہاں سے لائیں۔ اس انفرادیت کو موضوع بحث بنائیے۔
پاکستان سے جمعیت واحد طلبہ تنظیم جو کئی انٹرنیشنل اور اسلامی فورمز پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتی ہے، اپنے وطن کے لیے باعث افتخار بنتی ہے۔ کوئی مدمقابل ہو تو سامنے لائیے۔
ان شاء اللہ اگر آپ لبرل ہیں تو کسی میدان میں مقابلہ نہ ہو سکے گا۔ اور اگر آپ ''درمیانے'' ہیں تو کوئی موازنہ نہ کر سکیں گے۔ یہ بذات خود جمعیت کی اتنی بڑی کامیابی ہے کہ ظاہری و باطنی مخالفین کا واویلا مچانا بنتا ہے۔
Comments
Post a Comment